بھٹکل 7/ فروری (ایس او نیوز) ضلع شمالی کینرا میں نیشنل ہائی وے 66 کا چار لین توسیعی منصوبہ سیاست دانوں اور اثر و رسوخ والوں کی بار بار مداخلت کی وجہ سے ایسی دھیمی رفتار سے چل رہا ہے کہ پوری ایک دہائی کے بعد بھی اس کی تکمیل ہونا ممکن نظر نہیں آ رہا ہے ۔
سال 2014 میں کنداپور سے گوا تک 189.6 کلو میٹر فاصلہ پر شروع کیے گئے اس توسیعی منصوبہ کا کام کب کا ختم ہونا چاہیے تھا ۔ مگر شمالی کینرا میں کئی مقامات پر کام ادھورا پڑا ہوا ہے ۔ یہ دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ اگلے دو سال میں بھی یہ کام پورا نہیں ہوسکے گا ۔ دوسری طرف اب ٹھیکہ دار کمپنی آئی آر بی اور نیشنل ہائی وے اتھاریٹی کے افسران کی ملی بھگت سے کام کو جلد از جلد نپٹانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کے لئے اصل منصوبے کو نظر انداز کرکے کسی طرح شارٹ کٹ میں کام پورا کرنے کی کوشش شروع ہوگئی ہے ۔
حالانکہ ضلع شمالی کینرا میں منصوبہ پر عمل پیرائی کے لئے ٹھیکیدار کمپنی کو کسی قسم کی بڑی رکاوٹوں کا سامنا بھی کرنا نہیں پڑا ہے ۔ زمین حاصل کرنے کی راہ میں دو ایک چھوٹی موٹی قانونی کارروائیوں کو چھوڑیں تو ٹھیکیدار کمپنی کو کسی بڑی اڑچن کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑا ۔ الٹے کمپنی کو مالی طور پر بہت ہی بڑا منافع یہاں کے پہاڑوں سے نکالے گئے پتھروں اور پہاڑی تودوں سے ہوا ۔ حالانکہ پتھروں کو نکالنا اور اس کی رفت کرنا غیر قانونی کام تھا مگر دھڑلّے سے کیا گیا ۔ ایک جانب اعلیٰ سطح سے آئے ہوئے دباو نے ضلع انتظامیہ کے افسران کے منھ پر تالا لگا دیا تو دوسری طرف سیاست دانوں نے ایک دو دن تک اس کے خلاف آواز اٹھائی اور پھر اس کے بعد نہ جانے ان کے گلے میں کیا چیز پھنس گئی کہ دوبارہ آواز باہر ہی نہیں نکلی ۔ اس طرح کمپنی نے یہاں کی قدرتی دولت سے اچھی خاصی کمائی کر لی ۔
| کمپنی کو مالی طور پر بہت ہی بڑا منافع یہاں کے پہاڑوں سے نکالے گئے پتھروں اور پہاڑی تودوں سے ہوا ۔ حالانکہ پتھروں کو نکالنا اور اس کی رفت کرنا غیر قانونی کام تھا مگر دھڑلّے سے کیا گیا ۔ ایک جانب اعلیٰ سطح سے آئے ہوئے دباو نے ضلع انتظامیہ کے افسران کے منھ پر تالا لگا دیا تو دوسری طرف سیاست دانوں نے ایک دو دن تک اس کے خلاف آواز اٹھائی اور پھر اس کے بعد نہ جانے ان کے گلے میں کیا چیز پھنس گئی کہ دوبارہ آواز باہر ہی نہیں نکلی ۔ اس طرح کمپنی نے یہاں کی قدرتی دولت سے اچھی خاصی کمائی کر لی ۔ |
اس منصوبہ کا دوسرا حیران کن پہلو یہ ہے کہ پوری طرح منصوبہ کی تکمیل ہونے سے بہت پہلے ہی محکمہ ہائی وے کے وزیر نتین گڈگری نے اس ہائی وے کا افتتاح کردیا تھا ۔ اور اس کے بعد یہاں تعمیر کیے گئے ٹول پلازہ پر گزشتہ دو برسوں سے ٹیکس وصول کا کام بغیر رکاوٹ کے چل رہا ہے ۔
اس معاملہ میں تازہ مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ مرکزی حکومت کی میعاد 2024 میں ختم ہورہی ہے اور نیشنل ہائی وے کے توسیعی کام کی رفتار دیکھیں تو آئندہ دو سال میں بھی یہ کام پورا ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے ۔
ادھر توسیعی کام پورا نہ ہونے پر ٹھیکیدار کمپنی ، سرکاری افسران اور ہائی وے اتھاریٹی کے خلاف ہر جگہ عوام اپنی ناراضی کا اظہار کر رہے ہیں ۔ حکومت پر بھی کام کی تکمیل کے لئے دباو بڑھ رہا ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ٹھیکیدار کمپنی اور ہائی وے اتھاریٹی دونوں مل کر کسی بھی طرح ادھورے کام کو پورا کرنے پر تُل گئے ہیں ۔
اس کے لئے انہوں نے اصل پلان میں اپنی سہولت کے مطابق تبدیلیاں بھی کرنا شروع کیا ہے ۔ جیسے بھٹکل میں فلائی اوور کی جگہ ریامپ کی تعمیر کرنے کا منصوبہ ، سروس روڈ ، انڈر پاس وغیرہ کے سلسلے میں بالکل خاموشی اختیار کرنا وغیرہ یہ ثابت کرتا ہے کہ کسی بھی طرح جلد از جلد اس منصوبہ کو پورا کرنا ہی اب کمپنی کا مقصد رہ گیا ہے ۔ اس کی وجہ سے عوام کو جو مشکلات درپیش ہونگی اس سے کمپنی اور ہائی وے اتھاریٹی کو کوئی غرض نہیں ہے ۔
اس صورتحال پر سرکاری افسران تو چپکی سادھے بیٹھے ہیں مگر عوام کی طرف سے آوازیں بلند ہو رہی ہیں ۔ اور احتجاج کی تیاریاں کی جارہی ہیں ۔ اور ریاست میں چونکہ انتخابات کا موسم قریب ہے اس لئے سیاسی نمائندوں کے پاس عوام کا ساتھ دینے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ بھی نہیں ہے ۔ آنے والے چند دنوں میں اس تعلق سے کمپنی کے موقف اور عوام کے اقدامات کا منظر نامہ مزید واضح ہونے کے امکانات نظر آ رہے ہیں ۔